تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
عاشور کا سورج غروب ہوا تو بظاہر نیزوں اور تلواروں نے حق کی آواز کو خاموش کر دیا، لیکن مشیتِ الٰہی نے امامت کی صورت میں ایسا چراغ روشن فرمایا جس کی روشنی قیامت تک دلوں کو منور کرتی رہے گی۔یہ نورِ ہدایت حضرت امام علی بن الحسین، زین العابدین و سید الساجدین علیہ السلام کی ذاتِ اقدس تھی؛ وہ عظیم ہستی جس نے اسیری کی زنجیروں میں بھی عزتِ اسلام کا پرچم سربلند رکھا، ظلم و جبر کے سائے میں بھی امامت کی عظمت کو محفوظ رکھا، اور اشک، دعا، سجدہ، عبادت اور بے مثال صبر کے ذریعہ کربلا کے پیغام کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا۔
امام زین العابدین علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ، بندگیِ خدا، عشقِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام، خدمتِ خلق، اخلاقِ کریمانہ اور ظلم کے خلاف خاموش مگر مؤثر جہاد کا درخشاں نمونہ ہے۔ آپؑ کی شہادت صرف ایک عظیم امام کی رحلت نہیں، بلکہ تاریخِ اسلام کا ایک ایسا المناک باب ہے جو اہلِ بیت علیہم السلام پر ڈھائے گئے مظالم کی دردناک داستان بیان کرتا ہے۔ آج جب ہم اس مظلوم امام کی یاد مناتے ہیں، تو درحقیقت اپنے عہدِ وفا کی تجدید کرتے، ان کے غم میں اشکِ عقیدت نچھاور کرتے اور ان کی سیرتِ مطہرہ سے صبر، عبادت، تقویٰ، عفو و درگزر اور بندگیِ الٰہی کا درس حاصل کرتے ہیں۔
حضرت امام زین العابدین، امام سجاد علیہ السلام، مشہور روایت کے مطابق 25 محرم الحرام 95 ہجری کو زہر دے کر شہید کئے گئے۔ بیشتر شیعہ مصادر کے مطابق آپؑ کی شہادت اموی حکومت کے حکم پر ہوئی۔ بعض مؤرخین نے اس کی نسبت ولید بن عبدالملک کی طرف دی ہے، جبکہ بعض روایات میں اس کے بھائی ہشام بن عبدالملک کا نام بھی مذکور ہے۔ (بحار الأنوار، جلد 46، صفحہ 152-154)
البتہ امام سجاد علیہ السلام کی تاریخ شہادت کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض روایات کے مطابق آپؑ کی شہادت 92 سے 100 ہجری کے درمیان کسی سال میں ہوئی، تاہم مشہور اقوال کے مطابق آپؑ کی شہادت 94 ہجری (علامہ اربلی کے مطابق) یا 95 ہجری (شیخ مفید اور شیخ طوسی سمیت متعدد شیعہ علماء کے مطابق) میں واقع ہوئی۔
اسی طرح یومِ شہادت کے بارے میں بھی مختلف اقوال منقول ہیں۔ بعض مؤرخین نے 12، بعض نے 18، بعض نے 19 اور بعض نے 22 محرم الحرام ذکر کیا ہے، جبکہ مشہور قول کے مطابق آپؑ کی شہادت 25 محرم الحرام کو ہوئی۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: "حضرت امام علی بن الحسین علیہ السلام 95 ہجری میں 57 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے، اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد 35 سال تک زندہ رہے۔" (الکافی، ج 1، باب مولد أبی محمد علی بن الحسین علیہ السلام)
امام زین العابدین علیہ السلام کی شبِ شہادت
بحار الأنوار (جلد 46، صفحہ 148، حدیث 4) میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنی شہادت کی رات اپنے فرزند حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے فرمایا: "نور چشم! میرے لئے وضو کا پانی لے آؤ۔"
امام محمد باقر علیہ السلام پانی لے آئے۔ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: "یہ پانی وضو کے لئے مناسب نہیں، کیونکہ اس میں ایک مردہ جانور گر گیا ہے۔"
امام محمد باقر علیہ السلام نے چراغ لا کر برتن کا جائزہ لیا تو اس میں ایک مردہ چوہا موجود تھا۔ چنانچہ وضو کے لئے دوسرا برتن لے آئے۔
اس کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: "نور نظر! آج وہی رات ہے جس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا۔"
پھر آپؑ نے اپنی اس اونٹنی کے بارے میں وصیت فرمائی جس پر آپؑ نے بعض روایات کے مطابق بائیس (22) مرتبہ حج ادا فرمایا تھا۔ آپؑ نے تاکید فرمائی کہ اس کی اچھی طرح دیکھ بھال کی جائے اور اسے مناسب خوراک دی جائے۔
روایت میں آیا ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کے بعد وہ اونٹنی مسلسل آپؑ کی قبرِ مبارک پر آتی رہی، یہاں تک کہ تین دن بعد وہ بھی مر گئی۔
امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت
روایت ہے کہ جب امام زین العابدین علیہ السلام کو زہر دیا گیا تو آپؑ کچھ دیر کے لئے بے ہوش ہوگئے۔ جب افاقہ ہوا تو آپؑ نے سورۂ واقعہ اور سورۂ زمر کی تلاوت فرمائی، پھر یہ آیت مبارکہ تلاوت کی: "الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ ۖ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ"
اور وہ کہیں گے کہ شکر خدا ہے کہ اس نے ہم سے کئے ہوئے اپنے وعدہ کو سچ کر دکھایا ہے اور ہمیں اپنی زمین کا وارث بنادیا ہے کہ جنت میں جہاں چاہیں آرام کریں اور بیشک یہ عمل کرنے والوں کا بہترین اجر ہے. (سورۂ زمر: 74)
اس کے بعد امام علیہ السلام اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے اور جامِ شہادت نوش فرمایا۔
سعید بن مسیب روایت کرتے ہیں کہ جب امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت ہوئی تو مدینہ کے نیک و بد، سبھی لوگ آپؑ کے جنازے میں شریک ہوئے۔ ہر زبان پر آپؑ کی مدح و ثنا تھی اور ہر آنکھ اشک بار تھی۔ روایت کے مطابق جنازے میں اس قدر کثیر تعداد میں لوگ شریک تھے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کوئی شخص باقی نہ رہا۔
(بحار الأنوار، جلد 46، صفحہ 147-148؛ الکافی، جلد 1، صفحہ 467)
امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کے اسباب
مورخین کے مطابق امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کا بنیادی سبب آپؑ کا بے مثال روحانی، علمی اور سماجی اثر و رسوخ تھا۔ آپؑ نے دعا، عبادت، اخلاق اور تعلیماتِ اسلام کے ذریعے امت میں دینی شعور بیدار کیا اور واقعۂ کربلا کے حقیقی پیغام کو زندہ رکھا، جو حکومتِ بنی امیہ کے لئے ایک بڑا فکری اور سیاسی چیلنج بن گیا تھا۔
اس کے علاوہ اہلِ بیت علیہم السلام کے خلاف اموی حکمرانوں کی دیرینہ عداوت، امامؑ کی جانب سے ظلم و فساد کے خلاف مسلسل حق گوئی اور آپؑ کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت بھی ان عوامل میں شامل تھی جنہوں نے حکمرانوں کو آپؑ کے خلاف اقدام پر آمادہ کیا۔
حضرت امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام کی شہادت ولید بن عبدالملک کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ عمر بن عبدالعزیز سے منقول ہے کہ ولید ایک جابر اور ظالم حکمران تھا جس کے دور میں ظلم و ستم عام تھا۔ اسی زمانے میں بنی امیہ کے کارندوں نے اہلِ بیت علیہم السلام، بالخصوص امام زین العابدین علیہ السلام، پر شدید مظالم ڈھائے۔
مدینہ کا گورنر ہشام بن اسماعیل، جو عبدالملک بن مروان کے زمانے سے اس منصب پر فائز تھا، امام سجاد علیہ السلام کے ساتھ نہایت سخت رویہ اختیار کرتا تھا۔ جب اسے اس کے مظالم کی وجہ سے معزول کیا گیا تو لوگوں کو اس سے بدلہ لینے کی اجازت دی گئی۔ وہ خود کہا کرتا تھا کہ مجھے صرف علی بن الحسین علیہ السلام سے خوف ہے، لیکن جب امامؑ اپنے اصحاب کے ساتھ وہاں سے گزرے تو نہ آپؑ نے اس سے کوئی انتقام لیا اور نہ اپنے اصحاب کو ایسا کرنے کی اجازت دی۔
ایک روایت کے مطابق امامؑ نے اس کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ اگر تم مالی تنگی میں ہو تو ہم تمہاری مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ امامؑ کے اس عظیم اخلاق، عفو و درگزر اور حسنِ سلوک نے دشمنوں کو بھی آپؑ کی عظمت کا معترف بنا دیا۔
امام زین العابدین علیہ السلام کا قبر مبارک
امام زین العابدین علیہ السلام کو مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپؑ حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے پہلو میں مدفون ہیں۔ بعد ازاں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو بھی اسی مقام پر دفن کیا گیا، جس کے باعث جنت البقیع اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے مقدس مزارات کا مرکز بن گیا۔
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ اور شہادت اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ حق کی آواز کو نہ تلواریں خاموش کر سکتی ہیں، نہ قید و بند کی صعوبتیں اور نہ ہی ظلم و استبداد کی قوتیں۔ آپؑ نے اپنی دعاؤں، سجدوں، اخلاقِ کریمانہ اور بے مثال صبر و استقامت کے ذریعہ کربلا کے پیغام کو دلوں میں زندہ رکھا اور رہتی دنیا تک اہلِ بیت علیہم السلام کی حقانیت کا ناقابلِ فراموش باب رقم فرمایا۔
آج بھی صحیفۂ سجادیہ کی دعائیں، رسالۂ حقوق کی تعلیمات اور امام سجاد علیہ السلام کی پاکیزہ سیرت ہر صاحبِ ایمان کے لئے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔ آئیے! اس عظیم شہیدِ امامت کی یاد میں اپنے دلوں کو محبتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے منور کریں، ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنائیں، اور بارگاہِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا میں ان کے مظلوم فرزند کا پرسہ پیش کرتے ہوئے دعا کریں کہ پروردگار ہمیں امام زین العابدین علیہ السلام کی معرفت، ان کی سیرت پر عمل، ان کی شفاعت اور اہلِ بیت علیہم السلام کی ولایت پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔









آپ کا تبصرہ